مکالمہ ڈاٹ کام پر میری ایک تحریر پوسٹ ہوئی تھی "احتجاج بمقابلہ کامیابی "جس کے بارے میں کچھ دوستوں نے تبصرہ کیا تھا تو میں نے یہ ضروری سمجھا کہ اس تحریر کو اور واضع کرنے کی ضرورت ہے جو نقطعہ واضع ہوا وہ یہ تھا کہ اگر احتجاج نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے یا یہ کہ دنیا میں ھر جگہ احتجاج ہوتے ہیں تو یہ کیسے کر ممکن ہے کہ احتجاج کے علاوہ وہ کونسی ممکنات ہیں جن سے مسئلوں کا حل کیا جا سکے۔
ہمارے معاشرے کہ ایک یہ بھی المیہ رہا ہے کہ مسئلوں کی نشاندھی تو کی جاتی رہی ہے لیکن مسئلوں کا حل یا تو پیش نہیں کیا جا سکا یا سمجھ سے بالا تر رھا ہے۔
اس چیز کو ذرا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احتجاج کب کیا جاتا ہے اکثر احتجاج تب ھوتے ہیں کہ انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر اپنی بات کو منوانے کے لیے احتجاج کیا جاتا ہے اور اس احتجاج کو سامنے والے کی طرف سے بھی اکثر فورس کے ذریعے اس احتجاج کو نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے احتجاج بھی ایک فورس کا ہی نمونی ھوتا ہے یعنی فورس کے سامنے ایک اور فورس جب ایک معاملے میں دو فورس آمنے سامنے آجائیں تو فورس ہمیشہ منفی رویوں اور منفی نتیجوں کو پیدا کرتی ہیں جس سے ٹکرائو کا ماحول بنتا ہے فورس کے قانون کے مطابق جب فورس ایک ہی ڈائریکشن میں ہو تو نتیجہ اور ہوتا ہے لیکن فورس جب فورس کے آمنے سامنے ہو تو نتیجہ کچھ اور آتا ہے یہ لا آف نیچر ہے جیسے احتجاج کے سامنے احتجاج کو روکنے والی فورس یہ آمنے سامنے کا معاملہ ہے اور نتیجہ یہ ہوتا کہ کبھی کبھی احتجاج کو مان لیا جاتا ہے اور ان مانگوں کو کسی حد تک مان کر احتجاج کو پیچھے ہٹا دیا جاتا ہے لیکن اس سے احتجاج ختم نہیں ہو جاتا اس سے ایک اور احتجاج کا جنم ہوتا ہو جو اگلی باری اس سے بھی ابھر کر آتا ہے جب ان مانگوں کو ردوبدل کیا جاتا ہے یا کوئی نئے معاملے میں احتجاج ہوتا ہے تو اسے پچھلے احتجاج کو مثال کے طور پر پیش کرکے زوردار احتجاج کیا جاتا ہے یوں احتجاج در احتجاج کی نفسیات موٹیویٹ ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ نہ رکتے ہوے ایک بڑے ٹکرائو کا سبب بن جاتا ہے۔
اب یہاں معاملہ یہ درپیش ہے کہ آخر آحتجاج کی نوبت کیوں آتی ہے اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے بھی احتجاج کو سمجھنا ہوگا کہ جو فورس احتجاج کے سامنے آتی ہی انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر وہ فورس بھی اسی احتجاج کی ہی پیروکار ہوتی ہے جو احتجاج کے سامنے آتی ہے اس فورس کا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ اگر اس فلاں مسئلے جو اب ابھر رھا ہے کو اگر نہیں حل کیا جاتا تو اس کے اگینسٹ احتجاج ہو سکتا ہے تو وہ فورس یا تو اس مسئلے کو حل کر دیتی ہے احتجاج ہونے سے پہلے یا تو احتجاج کے بعد یا احتجاج کے بعد بھی نہیں جو ٹکرائو سے بڑے ٹکرائو تک۔ اب یہ بھی ایک احتجاج ہی ہے کہ احتجاج کے بدلے احتجاج کو مان لینا یعنی اس ہونے والے احتجاج کے خوف سے وہ دب کر رہ جاتی ہے اور اپنے لیے صحیح وقت کا انتظار کرتی ہی اور پہر اسے مسئلےکو نئے طریقے سے دبایا جاتا ہے یا توڑا مروڑا جاتا ہے اور یہ سب احتجاجن ہی کیا جاتا ہے لیکن یہ وہ احتجاج ہوتا ہے جس میں ذرا شور کم ہوتا ہے۔ اب جو معاملہ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ دونوں فریق بظاھر احتجاج کرنے والے اور بظاھر احتجاج کو روکنے والے جن کے خلاف احتجاج ہوتا ہے یہ دونوں اپنے مقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور دونوں فریق اس چیز کا اپنے آپ کو حقدار سمجھتے ہیں ایک دینا نہیں چاھتا دوسرا چھوڑنا نہیں چاھتا اب یہاں ایک تیسرا راستہ موجود ہے اور وہ ہے ممکن کا راستہ اگر دونوں مخلص ہوں تو وہ اس راستے کو اختیار کرکے کافی مسئلوں سے بچ سکتے ہیں اور بل آخر آحتجاج کے بعد بھی اسی آپشن کو استعمال میں لایا جاتا ہے لیکن وہ احتجاجی نفسیات کے شکار لوگ احتجاج کو کرکے یا احتجاج کو ختم کرکے اس نقطے پر آتے ہیں احتجاج کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ جو لوگ اس احتجاج سے وابستہ ہوتے ہیں نتائج کا علم فقط انہیں رھتا ہے لیکن احتجاج میں رہتے کم لوگ ہیں لیکن اسے دیکھتے زیادہ ہیں اور دیکھنے والے ان نتائج سے بے خبر ہوتے ہیں اور وہ فطرتاً یہ ہی سمجھتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی حل نکلا ہوگا جس سے احتجاج ختم ہوا لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ جو کوئی نہ کوئی حل احتجاج کے بعد ھوا ھوگا وہ احتجاج سے پہلے بھی موجود تھا لیکن ہم احتجاج زدہ معاشرہ اس حل کو احتجاج کو روک کر یا احتجاج کو کرکے اس حل تک پہنچتا ہے۔

Comments
Post a Comment