Posts

Showing posts with the label mukalma

Ham Apni Qabron Main Sans Ley Rahey Hain

Image
  ہمارا خطہ وہ خطہ ہے جہاں نہ کبھی جھموریت آئی نہ مارشل لا آئی ہمارا خطہ وہ خطہ ہے جہاں نہ کبھی اسلام تھا نہ کبھی سوشلزم، کمیونزم ہمارا خطہ وہ خطہ ہے جہاں نہ مصائب آئے نہ کبھی خوشیاں ہمارا خطہ وہ خطہ ہے جہاں نہ وطن پرستی تھی نہ کبھی غداری تھی ہمارا خطہ وہ خطہ ہے جہاں نہ کبھی کوئی انسان تھا نہ کوئی خدا یہاں یہ سب باھر کی چیزیں ہیں یہ ہمیں سب دور سے ملیں ان میں سے کسی چیز کو ہم میں سے کسی نے اپنی آنکھوں سے کوئی مشاھدہ نہیں کیا ہمارے پاس ان میں سے جو چیز ملی وہ ان کی بگڑی صورت تھی جسے ہم نے مکمل گمان کر لیا کہ یہ ایسی ہونگی انسان جن حالات میں رہ کر جن چیزوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور ابزرو کرتا ہے اور جو ان کو دور سے سنتا ہے اور اس دور کے سنے سے جو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے غمان غالب ہے کہ وہ کبھی ویسا نہ کر پائے نہ سمجھ پائے یہی وجہ تھی کہ یہاں وہ سب کچھ ان کی بگڑی صورت میں ہم تک پہنچا اور اسے ہم نے کامل سمجھ لیا یوں معاشرہ ایک بگڑی شکل کو حتمی شکل سمجھ کر معاشرے کے تباھ کاریوں کا سبب بنا ہے۔ میں نے اپنی حقیر ناقص اور لاعلمی کی بنیاد پر جو محسوس کیا ہے کہ یہاں ہر چیز کا اب تعارف ہی بد...

Ulti Chalang

Image
ہم اکثر و بیشتر چیزوں کو ایک ہی پہلو سے دیکھنے کے عادی ہیں حالانکہ ھر چیز کے پہلو یا زاویے ایک سے زیادہ ہوتے ہیں لیکن ہم چیزوں کو اپنے مطابق دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں چیزوں کو چیزوں کے مطابق دیکھنے کا ہنر آنا چاہیے۔ چیزوں میں کبھی بھی کوئی برائی نہیں ہوتی برائی یا غلطی اس کے استعمال میں ہو سکتی ہے اکبر بادشاہ نے ایک بار اپنے خاص درباری بیربل سے کہا کہ بادشاہ کو کبھی تبدیل نہیں ہونا چاہیے بادشاہ ہمیشہ بادشاہ رہنا چاہیے حتیٰ کہ بادشاہ کو کبھی موت بھی نہیں آنی چاہیے بیربل نے کہا عالی جناب آپ نے درست فرمایا لیکن اگر ایسا ہوتا تو آپ کبھی بھی بادشاہ نہ بن پاتے کیوں کہ بادشاہوں کا یہ سلسلہ آپ کے پیدا ہونے سے کافی پہلے سے چلا آ رہا ہے تو پہر آپ کیوں کر بادشاہ بن پاتے۔ اکبر نے اس اصول کو اپنی بادشاہی سے منسوب کر کے بنانا چاھا یہ نہیں سوچا کہ یہ اصول خود میرے خلاف ہوتا اگر یہ اصول واقعی میں کوئی اصول ہوتا۔ اور ہمارے ملک کا المیہ بھی یہی ہے کہ ھر بادشاہ نے ہر اصول کو اپنی ذات کو منسوب کر کے بنایا ہے یہاں ادارے یہاں قانون اس لیے نہیں بنائے جاتے کہ ان سے وطن عزیز کو کوئی فائدہ ہو بلکہ ان...

Tabligh Preaching

Image
  اسلام کی تبلیغ اور صبح سے رات تک پانچ مرتبہ نماز کا بلاوہ کیوں اپنا اثر ضایع کر چکا ہے اس کی سادی وجہ ہے وہ یہ کہ اسلام سب سے پہلا اور آخری بھترین دین تھا جو آج اپنی اھمیت کھو چکا ہے اس کی وجہ کوئی اسلام کا نقص نہیں اس کی وجہ ناقص مسلمان ہیں اگر آج آپ جاپان جائیں ان کو تبلیغ کریں کہ آپ غلط راستے پر ہیں آپ اسلام کو قبول کر لیں آپ یہ یہ فلاں اچھے کام کریں گے یعنی راستے سے پتھر ھٹائیں گے، کسی بھولے کو اس کا راستہ بتا دیں گے، وعدہ خلافی نہیں کریں گے، ایماندار ہونگیں،اعلی اخلاق پر ہونگے، وغیرہ وغیرہ تو آپ کو ثواب ہوگا اور آپ جنت کے راستے پر ہونگیں تو کیا یہ باتیں کوئی فرق ڈال سکتیں ہیں کہ وہ اسلام کو قبول کرلیں قطعی نہیں کیوں کہ وہ یہ تو پہلے سے ہی کر رہے ہیں وہ اپ کے اس لاجک کو انڈر اسٹینڈ نہیں کر پائیں گے کیوں کہ رسول اللہ نے جو تبلیغ زبان اور کردار سے کی تھی وہ معاشرہ پستی میں گرا ہوا تھا وہاں یہ باتیں معنیٰ رکھتی تھیں آج اس کا الٹ ہے ایک دوکھے باز ،ایک ملاوٹ کرنے والا ،ایک دوسروں کا راستہ بند کرنے والا ،ایک دوسرے کو اپنے سے کمتر سمجھنے والا ،ایک جسکا کام ہی وعدہ خلافی رہ گیا ہو ، ...

Our Journey

Image
  انسان کی یہ نیچر ہے کہ وہ سوال پوچھتا ہے اور اس کا جواب دینے والا بھی انسان ہی ہوتا ہے تو کیا معاملہ ہے کہ انسان سوال بھی پوچھتا ہے اور جواب بھی دیتا ہے ان دونوں معاملات کا تعلق علم سے ہے۔ علم ہی سے سوال کا ذھن بنتا ہے اور علم ہی سے جواب کا ذھن بنتا ہے لیکن دونوں علوم میں ایک بنیادی فرق ہے سوال کا تعلق علم کی مزید حاصلات ہے اور جواب کا تعلق اس مزید علم تک پہنچ چکنا ہے۔   لیکن جب جواب کے مقابلے میں سوال ابھرے تو وہ سوال شعور کا معاملہ ہے نہ کہ علم کا۔ شعور وہ جگہ ہے جہاں سے علم کا گذر محتاط ہو جاتا ہے کیوں کہ شعور علم کی کسوٹی بھی ہے اور یہ سوال علم کے سفر سے شعور تک پہنچتا ہے اب اس کا جواب بھی شعور کے تحت ہونا چاہیے نہ کہ علم کے تحت جب انسان ان چیزوں کا لحاظ نہ کر پائے تو جو صورت حال بنتی ہے وہ ابھام کی صورت ہے اور ابھام وہ جگہ ہے جہاں سے حاصلات کے سفر کی واپسی ہے آپ سفر وہاں سے شروع کرتے ہیں جہاں آپ ہیں جب ہمارے بڑے اگے جانے کے بدلے پیچھے کی طرف سفر کر کے جہاں ہمیں چھوڑ گئے ہیں ہمارا سفر پہر وہیں سے شروع ہوتا ہے اب اگر آپ اسی ابھام میں گہرے ہوئے ہیں تو آپ کا سفر پہر مز...

Principles

Image
  اگر انسان کو دنیا میں بہتر زندگی گذارنے کے لیے جو سب سے زیادہ اھم چیز کی تلاش کرنی چاہیے یا جس کا سب سے زیادہ اھم کردار ہو سکتا ہے تو وہ ایک لفظ میں یہ ہوگا کہ اصول۔ اصولوں کی اھمیت کو سمجھنے کے لیے ہمارے پاس فقط ایک ہی راستہ موجود ہے دوسرا کوئی راستہ موجود ہی نہیں اور وہ ہے فطرت کا راستہ جسے سمجھے بغیر آپ اصولوں کو نہیں سمجھ سکتے کہ آخر یہ اصول ہیں کیا اور کیوں ضروری ہیں ۔ زندگی سے فطرت کو نکال دیا جائے یا فطرت سے زندگی کو نکال دیا جائے تو دونوں چیزیں اپنی قیمت اور اھمیت کھو دیں گی۔ اگر آپ یہ مان لیں کہ فطرت ہی زندگی ہے اور زندگی ہی فطرت ہے تو یہ غلط بات نہیں ہوگی۔ فطرت اپنے اصولوں کے مطابق اپنے اصولوں کی پابند ہے لیکن اکثر و بیشتر انسان کسی بھی اصول کا پابند نہیں رہتا یہی وجہ ہے کہ وہ اس چیز سے ٹکرانے کی کوشش کرتا ہے جو لگے بندھے اصولوں کے مطابق ان اصولوں کی پابند ہوتی ہے یعنی فطرت سے جب بھی ٹکرائو ہوگا تو نقصان فقط ٹکرائو کرنے والے کا ہوگا کیوں کہ یہی اصول و ضوابط ہیں جو کسی کو ٹکرائو سے روکے رکھتے ہیں۔ انسان کو ہر حال میں فطرت سے ھم آہنگ رہنا ہوگا اسی میں انسان کی بقا ہے۔ انس...

Availability And Unavailability

Image
  یہ دنیا عجیب طرز سے بنائی گئی ہے یہاں جو کسے کے لیے "ہے" وہ اس کے لیے ناکافی ہے اور یہاں وہی جو کسی کے پاس "نہیں ہے" وہ اس کے لیے ایک مقصد ہے ان دونوں باتوں کے درمیان جو فرق ہے وہ ہے "سوچ" کا اور "سمجھنے" کا انسان تب نقصان اٹھاتا ہے جب وہ اپنے مقصد کو ایک طرفہ طور پر دیکھتا ہے اگر وہ اس چیز کا مطالعہ کرے کہ جو میرے پاس "ہے" وہ جس کے پاس "نہیں ہے" اس کی کیا کیفیت ہے تو معاملہ کسی قدر آسان ہو جائے گا۔ جو "ہے" کسی کے لیے ناکافی ہے اسے چاہیے کہ اس کا بھی مطالعہ کرے جس کے پاس اس "ہے" سے بھی "زیادہ "ہے" تو کیا وہ جو اس کے پاس "ہے" وہ اس "ہے" سے مطمئن ہے یقیناً آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی اس"ہے" سے غیر مطمئن ہے جو آپ کی " ہے" سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح جو "ہے" آپ کے پاس ہے اور وہ "ہے" جس کے پاس نہیں تو کیا وہ آپ کی "ہے" کو پاکر مطمئن ہو سکے گا یقیناً نہیں کیوں کہ وہ بھی آپ میں سے ہے جیسے آپ اپنی "ہے" سے مطمئن نہیں تو جو اس ...

Weightless بے وزنی

Image
  مولانا وحید الدین خان نے اپنے کتاب ڈائری کے صفحے نمبر 216 پر ایک واقعہ نقل کیا ہے جو اس طرح ہے تین "خلائی ہیرو راکیش شرما ، پوری مالی شو ، گناڈی اسٹریکالوف اپریل 1984 کو اپنے اٹھ روزہ خلائی سفر سے زمین پر اترے تو وہ خلا میں پانچ ملین کلو میٹر کا سفر طے کر چکے تھے۔ مگر جب انکو خلائی مشین سے باہر نکال کر دوبارہ زمین پر لایا گیا تو وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے سے معذور تھے اس دن ٹیلیویژن پر خلائی پروگرام دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مسٹر شرما زمین پر ایک مفلوج کی طرح پڑے ہوئے ہیں ان کے چہرے پر سخت شرمندگی کے آثار ہیں اور لوگ ان کا بازو پکڑ کر ان کو کرسی پر بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا اس کی وجہ ان کا بی وزنی کی حالت میں آٹھ دن رہنا تھا مسٹر شرما اور ان کے روسی ساتھی جب زمین سے تین سئو کلومیٹر اوپر خلا میں اڑان کر رہے تھے تو ان کا جسم بلکل بے وزن ہو چکا تھا وہ خلائی گاڑی کے اندر اسی طرح تیرتے تھے جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے مسٹر شرما نے ایک خلائی انٹرویو میں کہا تھا کہ اس وقت میں اپنے ٹوتھ پیسٹ اور برش کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہوں جو میرے ھاتھ سے چھوٹ کر چھت پر جا لگے ہیں...

خدا کے بارے میں غلط فھمی

Image
جب انسان خدا کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ سب سے بڑی غلطی یہ کرتا ہے کہ دراصل وہ خدا کا نہیں اس سوچ کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے جو اسے گھر سے ملی یا پہر معاشرے سے ملی انسان اپنی تربیت کی بنا پر مطالعہ کر رہا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسان خدا کو مان کر بھی غلطی کر رہا ہوتا ہے اور خدا کا انکار کر کے بھی غلطی کر رہا ہوتا ہے۔خدا کو ماننے یا خدا کا انکار کرنے کے لیے جو سب سے زیادہ ضروری ہے وہ ہے فطرت کو سمجھنا جب ہم اپنے دماغ کو سب خرافات سے آزاد کر کے اپنی اس تربیت کو جو ہم نے گھر سے لی ہے یا معاشرے نے ہمیں دی ہے اسے ایک طرف رکھنا ہوگا کیوں کہ اگر آپ کے تربیت ایسی ہوئی ہے جہاں خدا سب کچھ کا مالک ہے تو آپ فطرت کو بھی خدا کے ساتھ خلط ملط کر دینگے اور اگر آپ کی تربیت ایسی ہوئی ہے جہاں خدا کا وجود ہی نہیں تو آپ خداکے ساتھ فطرت کا بھی انکار کر سکتے ہیں اور کبھی بھی فطرت کو سمجھ نہیں سکیں گے فطرت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے آپ ذھن کسی چیز کی پیداورا نہ ہو آپ خود ڈسکور کریں کہ معاملہ کیا ہے نہ کہ ان لوگوں کے پیچھے چلیں جن لوگوں نے فقط اس کی پیروی کی جو ان کے اپنے اپنے آئیڈیل تھے جسے شخصیت پرستی بھی کہا جا سک...

I Am A Thief میں چور ہوں

Image
  میں چور ہوں اور میں پہلا چور ہوں جو اقرار کر رہا ہوں کہ میں چور ہوں جب اور جس دن بائیس تئیس کروڑ چور یہ اقرار کر لیں گے کہ ہم چور ہیں اس دن ھمارے معاشرے میں کوئی چور نہیں رھے گا کیوں کہ لفظ چور کی معنی ہے کہ وہ آدمی جس کے کرتوت کوئی نہ دیکھے کیوں کہ چور وہی ہے جس کے کرتوت ڈھکے رہیں جس کے کرتوت ظاھر ہو گئے وہ چور نہیں رہتا اب اس بات سے اندازہ لگائیں کہ فقط ھزار یا پندرہ سئو لوگ یہاں چور نہیں جو اسیمبلیوں یا سینٹ میں یا کچھ اور بیٹھے ہیں ان کے کرتوت ہمیں پتہ ہے تو وہ لوگ چور نہیں ہیں لیکن یقیناً وہ لوگ چور ہیں جو اکثریت میں ہیں جو ان ھزار پندرہ سئو لوگوں کو آگے دھکیل دیتے ہیں اپنی چوری چھپانے کے لیے اور بلیم کے لیے جن پر وہ آرام سے چوری کا اور دیگر بلیم لگا سکیں اور یہی وہ کرتے آ رہے ہیں جسے غالباً چوھتر سال کا عرصہ لگ چکا ہے اگر جسے یہ چور کہتے آئے ہیں اگر واقعی وہ چور ہوتے تو حالات نے بدل جانا تھا لیکن آپ کو معلوم ہے کہ حالات نہیں بدلے اب کیا یہ بات حقیقت نہیں کہ میں چور ہوں مجھے فخر ہے کہ میں یہ سمجھ سکا کہ یہ اقرار کر سکوں کہ میں چور ہوں جب میں نے یہ اقرار کر لیا ہے کہ میں چور...

معاشرہ The Society

Image
میں نے اپنے دادا سے ایک بات سنی جو کہتے تھے کہ انہوں کسی اھل علم سے سنی تھی دادا نے بتایا کہ کسی زمانے میں دو بھائی رھتے تھے وہ ھر سال گندم کاشت کرتے تھے اور وہی ان کا گذر بسر تھا ایک سال انہوں نے گندم لگائی گندم کا فصل اگلے سال سے کچھ کم ہوا دونوں کا طریقہ یہ تھا کہ گندم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے تھے اور پہر باری باری اپنے اپنے گھر لے جاتے تھے اس سال بھی انہوں نے ایسا ہی کیا اس زمانے میں بوریاں وغیرہ نہیں ہوتی تھیں ایک برتن تھا جس میں ڈال کر وہ اناج گھر لے جاتے تھے تو بڑے بھائی نے کہا آپ ایک باری اپنے حصے سے گھر لے جائو پہر تم سانس لینا میں اپنے حصے سے لے جائوں گا چناچہ چھوٹا بھائی وہ برتن بھر کر گھر کی طرف روانا ہو گیا پیچھے بڑے بھائی نے سوچا اس سال گندم کم ہے میں بڑا ہوں گذارا کر لونگا لیکن یہ چھوٹا مشکل میں آجاے گا تو اس نے اپنے حصے سے ایک جھولی بھر کر چھوٹے بھائی کے حصے میں ڈال دی جب چھوٹا بھائی آیا تو اس بار بڑے نے وہ برتن اپنے حصے سے بھرا اور گھر کو روانا ہوا تو پیچھے چھوٹے بھائی نے سوچا کہ گندم اس سال کم ہے میں اکیلا ہوں بھائی بال بچے دار ہے اس کو مشکل آ جائے گی اس نے اپنے ح...

موقعہ اور غفلت Opportunity and negligence

Image
ایک کے لیے موقعہ اکثر دوسرے کی غفلت  کی وجہ سے بھی میسر آتا ہے جسے موقعہ ملتا ہے وہ اپنی ایکٹیوٹی  کی بنیاد پر ہوتا ہے اور غفلت  ھمیشہ پچھتاوے اور نقصان  کی صورت میں اسے بھگتنی پڑتی ہے دنیا میں نظر ڈالیں گے تو روز مرہ کی زندگی  میں ایسے کئی واقعے آپ کو ملیں گی جو غفلت اور موقعے کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں لیکن افسوس ہم اتنی غفلت میں گھرے ہوئے ہیں کہ ان سے کچھ سیکھنے  کو بھی تیار نہیں۔ سندھ کا ایک شھر میرپورخاص جو آم کے لحاظ سے پورے پاکستان میں مشہور ہے یہاں آم کے باغات کافی حد تک ہیں اور ان کی کوالٹی سب سے ٹاپ پر ہے اس وجہ سے یہاں آم کا کاروبار اچھا خاصہ ہے۔ یہ واقعہ آم کی سیزن 2013 کا ہے میرپورخاص شہر کی ایک ٹرانسپورٹ کمپنی جو پورے پاکستان میں آم کی ترسیل کا کام سرانجام دیتی ہے جو 1975 سے غالباً یہ کام کر رہی ہے اسی ٹرانسپورٹ کمپنی کے ایک بیوپاری نے ٹرانسپورٹ کے مینیجر سے آم کے اوپر لگنے والے اسٹیکرز کے بارے میں بات کی کہ مجھے دس لاکھ اسٹیکر چھپوا کر دیں (سارے بیوپاری حضرات اپنے مارکہ کے اسٹیکرز چھپواتے ہیں اور یہ کام بھی ٹرانسپورٹ کمپنی کی مدد سے سر ...

حضرت انسان

Image
  حضرت انسان کی شروعات کا منمبہ تکرار گواہی اور پہر انکار پر مشتمل ہے، کیسے وہ ایسے کہ اللہ نے جب آدم کو بنایا تو آدم کی شروعات فرشتوں شیطان اور اللہ کی تقرار سے شروع ہوتی ہے یعنی آدم کو شروعات میں ہی تنازعے کا سامنا رہا حالانکہ وہ تقرار آدم کی نہیں تھی آدم کا ڈاریکٹ اس تقرار سے کوئی تعلق نہیں لیکن جب اس تقرار کا نتیجہ برآمد ہوا یعنی فرشتوں کا اپنی بات سے رجوع اور شیطان کا اپنی بات پر اڑ جانا جب شیطان اللہ کی ذات سے انکاری ہوا تو اس نے فرشتوں کو گمراہ کرنے کی ذرہ برابر بھی کوشش نہیں کی کیوں کہ شیطان نے یہ جان لیا تھا کہ جو تقرار شروع ہوئی ہے اس کا سبب آدم ہے نہ کہ فرشتے کیوں کہ اس وقت شیطان اور فرشتوں نے ایک ہی موقف رکھا تھا تو شیطان نے آدم کو ٹارگیٹ کیا اس ٹارگیٹ کے نتیجے میں آدم ان ڈاریکٹ اس تقرار کا حصہ تب بنا جب آدم نے بھی غلطی کی اور شیطان کو اس کی پہلی کامیابی کا موقعہ فراھم کیا اس طرح آدم کو اس کی سزا ملی اور وہ اس تقرار میں شامل قرار پایا۔اس سے ظاھر ہوا کہ حضرت آدم کی شروعات ایک تقرار ہے۔ جو حضرت انسان کا پہلا فیلیوئر ہے۔ اس کے بعد کا معاملہ ہے گواہی کا آدم کے بعد بقایا پو...

احتجاج بمقابلہ کامیابی 2

Image
  مکالمہ ڈاٹ کام پر میری ایک تحریر پوسٹ ہوئی تھی "احتجاج بمقابلہ کامیابی "جس کے بارے میں کچھ دوستوں نے تبصرہ کیا تھا تو میں نے یہ ضروری سمجھا کہ اس تحریر کو اور واضع کرنے کی ضرورت ہے جو نقطعہ واضع ہوا وہ یہ تھا کہ اگر احتجاج نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے یا یہ کہ دنیا میں ھر جگہ احتجاج ہوتے ہیں تو یہ کیسے کر ممکن ہے کہ احتجاج کے علاوہ وہ کونسی ممکنات ہیں جن سے مسئلوں کا حل کیا جا سکے۔ ہمارے معاشرے کہ ایک یہ بھی المیہ رہا ہے کہ مسئلوں کی نشاندھی تو کی جاتی رہی ہے لیکن مسئلوں کا حل یا تو پیش نہیں کیا جا سکا یا سمجھ سے بالا تر رھا ہے۔ اس چیز کو ذرا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احتجاج کب کیا جاتا ہے اکثر احتجاج تب ھوتے ہیں کہ انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر اپنی بات کو منوانے کے لیے احتجاج کیا جاتا ہے اور اس احتجاج کو سامنے والے کی طرف سے بھی اکثر فورس کے ذریعے اس احتجاج کو نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے احتجاج بھی ایک فورس کا ہی نمونی ھوتا ہے یعنی فورس کے سامنے ایک اور فورس جب ایک معاملے میں دو فورس آمنے سامنے آجائیں تو فورس ہمیشہ منفی رویوں اور منفی نتیجوں کو پیدا کرتی ہیں جس سے ٹکرائو کا م...

Taqabul Ka Taqabully Jaezaتقابل کا تقابلی جائزہ

Image
  اج کوشش کرینگے کہ تقابل کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے میں اسی معاشرے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوں یا یوں سمجھ لیجیے کہ بائیس تئیس کروڑ کی بھیڑ میں سے ہی ہوں۔ معاشرہ ھمیشہ افراد کا پیش خیمہ ہوتا ہے میں اس معاشرے کی جو صحیح تشخیص کر سکا ہوں وہ یہ ہے کہ ھم دو مقامات پر بلکل اناڑی ہیں اور ان مقامات کی ہی وجہ سے ہم اناڑی ہی رہ گئے ہیں ایک ہے معاملہ فھمی اور دوسرا ہے تقابل، معاملہ فھمی پر اگلی بار لکھنے کی کوشش کروں گا آج پہلے تقابل کو سمجھیں کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نظر سے گذری جو کہ کرونا لاک ڈائون کے درمیان اٹلی سے ایک تصویر تھی جسے ہماری اس بھیڑ میں سے کسی نے شیئر کی تھی جس میں دو حصوں میں دکھایا گیا تھا ایک حصے میں اٹلی کے کسے فلائی اوور کے نیچے کچھ لوگوں نے اشیاء خوردونوش رکھ دیں تھی کہ حسب ضرورت کوئی چاہے تو اسے استعمال کرنے کے لیے لے جا سکے لیکن مین بات پوسٹ میں یہ بتائی گئی تھی کہ یہاں فوٹو سیشن یا وڈیو گرافی کرنے والا کوئی بھی موجود نہیں تھا دوسری طرف ھمارے معاشرے کی ایک تصویر تھی جہاں کچھ حقیر سی چیز کسے دی جارہی تھی تو وہاں دینے والا تو کوئی ایک تھا لیکن ایک بھیڑ فوٹو س...