خدا کے بارے میں غلط فھمی

جب انسان خدا کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ سب سے بڑی غلطی یہ کرتا ہے کہ دراصل وہ خدا کا نہیں اس سوچ کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے جو اسے گھر سے ملی یا پہر معاشرے سے ملی انسان اپنی تربیت کی بنا پر مطالعہ کر رہا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسان خدا کو مان کر بھی غلطی کر رہا ہوتا ہے اور خدا کا انکار کر کے بھی غلطی کر رہا ہوتا ہے۔خدا کو ماننے یا خدا کا انکار کرنے کے لیے جو سب سے زیادہ ضروری ہے وہ ہے فطرت کو سمجھنا جب ہم اپنے دماغ کو سب خرافات سے آزاد کر کے اپنی اس تربیت کو جو ہم نے گھر سے لی ہے یا معاشرے نے ہمیں دی ہے اسے ایک طرف رکھنا ہوگا کیوں کہ اگر آپ کے تربیت ایسی ہوئی ہے جہاں خدا سب کچھ کا مالک ہے تو آپ فطرت کو بھی خدا کے ساتھ خلط ملط کر دینگے
اور اگر آپ کی تربیت ایسی ہوئی ہے جہاں خدا کا وجود ہی نہیں تو آپ خداکے ساتھ فطرت کا بھی انکار کر سکتے ہیں اور کبھی بھی فطرت کو سمجھ نہیں سکیں گے
فطرت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے آپ ذھن کسی چیز کی پیداورا نہ ہو آپ خود ڈسکور کریں کہ معاملہ کیا ہے نہ کہ ان لوگوں کے پیچھے چلیں جن لوگوں نے فقط اس کی پیروی کی جو ان کے اپنے اپنے آئیڈیل تھے جسے شخصیت پرستی بھی کہا جا سکتا ہے۔
اب اگر ہم فطرت کی طرف نظر کریں گے تو ہم کسی نتیجے پر پہنچ سکیں گے، فطرت کو اپنے گھر سے اپنے آس پاس سے سمجھنا شروع کریں تو سب سے پہلے فطرت جن قوانین پر چلتی ہے اس کے دو پہلو ہیں ایک ذمیواری اور دوسری جوابدہی پہلے ذمیواری کو سمجھتے ہیں اگر آپ نے اپنے گھر میں ایک مرغی کو دیکھا ہو گا تو وہ جب انڈے دیتی ہے تو اسے فطرت نے الھام کر دیا ہے
کہ وہ اپنے انڈوں پر بیٹھ کر انہیں گرمی دے کر ان سے بچے پیدا کرے یہ ذمیواری مرغی کی ہے جب مرغی کے انڈے بچوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں پالتی ہے اور ان کی مکمل دیکھ بھال کرتی ہے اگر کوئی کوا یا باز بچوں کی طرف لپکتا ہے تو مرغی اس کے ساتھ فائٹ کرتی ہے اور بچوں کو بچانے کی ھر ممکن کوشش کرتی ہے یہ سب کرنے کے باوجود بھی مرغی کا کوئی بچہ اس مرغی کے کوئی کام نہیں آتا اور یہ سلسلہ نسل در نسل یوں ہی چلتا رہتا ہے یہ سب کچھ اس ذمیواری کے تحت ہو رہا ہوتا ہے جو فطرت نے اس مرغی کو دی ہوتی ہے۔
فطرت نے اس طریقے سے سب کو ذمیواریاں دی ہوئی ہیں ھوا،پانی مٹی پرند چرند پیڑ پودے ستارے چاند سورج سب فطرت کی اس ذمیواری کے پابند ہیں اور آپ کو سب اپنی ذمیواری بخوبی نبھاتے نظر آئیں گے۔
فطرت کا سسٹم اتنا ذمیوار ہے کہ آپ جو پیشنگوئی کرتے ہیں وہ بھی درست ثابت ھوتی ہے جیسا کہ آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ سورج کل کس وقت طلوع ہوگا اور کب غروب ہوگا یا چاند گہن یا سورج گہن کب ہونا ہے ان سب چیزوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فطرت کا پیغام کتنا واضح ہے۔اب دوسری طرف آتے ہیں کہ فطرت کی جوابدہی کیا ہے دیکھیں جب ہم ذمیواری کی بات کرتے ہیں تو پوری کائنات ان ذمیواریوں سے بھری ملے گی لیکن ان میں سے کوئی بھی جوابدہ نہیں۔
پوری کائنات ایک طرف اور انسان ایک طرف جب کائنات کی طرف نظر کر کے انسان اپنے اپ کو دیکھتا ہے تو وہ کائنات کے مقابلے میں ایک نقطے سے بھی کم حیثیت رکھتا ہے لیکن جب انسان اپنے آپ پر غور کرتا ہے تو وہ الگ سے ایک کائنات ہے۔
کائنات میں سے فطرت کو نکال دیا جائے تو یہ کائنات کب کی تصادم میں ذرہ ذرہ ہو چکی ہوتی لیکن فطرت نے اور فطرت کی ذمیواری نے کائنات کو پرویا ہوا ہے ہم انسان بھی اسی فطرت کا حصہ ہیں واحد اب تک معلومات کے مطابق ہم انسان ہیں جو فطرت کے ذمیواری بھی قبول کرتے ہیں اور اکیلے جوابدہ بھی ہیں۔
دنیا میں انسان نے اپنے جینے کے لیے ہمیشہ قوانین بنائے ہیں یا یوں سمجھ لیجیے کہ قوانین نے اب تک اس انسان اور فطرت کو بقا بخشی ہوئی ہے
جب انسان ننگا تھا تب بھی انسان قوانین پر چل کر اپنے آپ کو ڈھانپ سکا آج ہم ٹچ دور میں داخل ہیں جہاں ایک ٹچ آپ کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے تب بھی ہم قوانین بنا رہے ہیں اور چل رھے ہیں اور دوسروں کو ان قوانین پر ایک قانون کی مدد سے چلا بھی رہے ہیں۔
قانوں سب سے پہلے ہمیں جوابدھی کی طرف لے جاتا ہے جو جتنا زیادہ جوابدہ وہ اتنا قیمتی انسان،اگر انسان کے اندر سے آپ جوابدھی کا عنصر نکال دیں تو یقین کریں یہ کائنات تو شاید چلتی رہے لیکن اس کائنات پر ایک چھوٹا سا گرہ یہ زمین درھم برھم ہو جائے گا
ہماری چاہے کیسی بھی تربیت ہوئی ہو چاہے ہم ایک اچھے آدمی کے زیر اثر رہے ہوں یا برے سے برے کے زیرِ اثر رہے ہوں ہم چاہے کسی خدا کو ماننے والے ہوں چاہے کسی خدا سے واقف نہ ہوں چاہے کروڑوں خدا کو ماننے والے ہوں
ہم کیسے بھی ہوں لیکن ہم میں سے ھر ایک جوابدہ ہے
اس قانون کے جو کسی نے بھی بنائے ہوں دنیا کے ھر ملک میں جگھڑا کرنے کی سزا ہے چوری کی سزا ہے قتل کی سزا ہے حتیٰ کہ اونچا بولنے پر کسی کی شکایت پر بھی سزا ہے یہ سزا کیوں ہے اس لیے کہ ھر ایک قانون کا جوابدہ ہے جو ہم میں سے ہی کسی نے بنایا ہے جہاں جتنا قانوں پر عملدرآمد وہاں اتنا ہی سکون انسان یہ جان چکا ہے کہ وہ جوابدہ ہے انسان کی یہی خوبی اسے کائنات اور فطرت میں اسے منفرد کرتی ہے اور اسی جوابدہی میں زمیں کی بقا ہے اور یہ جوابدہی ہم کہاں سے لائے ہیں یہ ہمیں کس نے سکھائی ہے تو جواب ہے فطرت۔
فطرت کے قانون کے مطابق ہم جوابدہ ہیں اب اگر ہم پوری معلوم کائنات پر نظر دوڑائیں کہ یہ پورے کا پورا سسٹم اور یہ اتنا بڑا سسٹم ہے کہ ابھی تک اسے پرکھنا تو دور کی بات انسان اس پر ابھی جامع بات بھی نہیں کر سکا تو کیا یہ سسٹم جہاں ہم رہ رے ہیں وہ ایک حادثے کی پیداوار ہےاور ایک ایسا حادثہ جسے فطرت مسترد کر دیتی ہے جہاں ہم فطرت میں دیکھ رہے ہیں کہ خود بہ خود ہونے والی ایک چیز بھی نہیں موجود حتیٰ کہ ایک پینسل بھی اپنے وجود کا خالق چاہتی ہے ایک ہوئی جہاز جو بلندیوں میں تیرتا ہے اسے بھی ایک خالق کی ضرورت ہے فطرت میں کوئی ایک بھی ایسی مثال موجود نہیں جسے دیکھ کر یہ کہا جا سکے کہ یہ حادثاتی طور پر وجود میں آئی ہو کیوں کہ جب ہم فطرت کو سمجھیں گے تو معاملہ آسان ہوگا کم سے کم مجھے کسی ایک بھی ایسی چیز کا علم نہیں جو خود سے تیار ہو گئی ہو
جب فطرت ہمیں یہ بتا رہی ہے کہ ھر چیز کا کوئی سبب موجود ہے تو کیا ہوا کہ کائنات کے وجود کا کوئی سبب نہ ہو یہ بلکل فطرت کے منافی بات ہے ہم ایسا کہ کر فطرت کا انکار کر رہے ہیں اس فطرت کا جو ہمیں روز کی بنیاد پر وہ اسباب بتا رہی ہے کہ بغیر سبب کے کچھ بھی ممکن نہیں تب ایک خیال آتا ہے کہ اس سسٹم کا کوئی نہ کوئی خالق ہے اسے کوئی بھی نام دے دیں فرق نہیں پڑتا
ایسا نہیں کہ یہ میرا دعوہ اس لیے ہے کہ میں خدا میں یقین کرتا ہوں بلکہ میرا یقین فطری ہے اگر خدا ہے تو وہ پوشیدہ کیوں ہے اس سوال کا جواب بھی فطرت کے پاس موجود ہے فطرت ہمیں بتا رہی ہے کہ ایسی ھزاروں چیزیں ہیں جو کہ ہیں لیکن وہ انسان سے پوشیدہ ہیں خود انسان کے اندر ایک دل موجود ہے لیکن اسے باڈی میں پوشیدہ رکھا گیا ہے تو فطرت نے اسے دیکھنے کا بھی ایک میکینزم دیا ہے جسے ہم بغیر کسی پروسیس کے نہیں دیکھ سکتے انسان کے اندر کروڑوں اور جز بھی موجود ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے کسی پروسیس کی ضرورت ہے جب ہر چیز کو دیکھنے اور سمجھنے کے لیے ایک پروسیس کی ضرورت ہے تو ہم یہ غلطی کیوں کرتے ہیں کہ خدا کو کسی پروسیس کے بغیر دیکھا یا سمجھا جائےتو کیوں کر خدا کو بغیر پروسیس کے دیکھا جائے
یہ فطرت کا اصول نہیں کیا اج کی جدید سائنس کے پاس ایسا کوئی آلہ ہے جس سے ہمیں ایک بھیک مانگنے والے معذور ناکارہ شخص کا ارادہ یا خیال بتا سکے کہ یا اس کا گذرا ہوا کل ہمیں دکھا سکے بلکل بھی نہیں کیوں اس شخص کا ارادہ بھی موجود ہے اور اس کا گذرا ہو کل بھی یقینن ہے لیکن ہم سے وہ پوشیدہ ہے کیوں کہ ہمیں یہ سب کرنے کے لیے ایک پیمانہ درکار ہے جو فلوقت ہمارے پاس موجود نہیں تو کیا انسان نے وہ آلہ وہ پیمانہ دیافت کر لیا ہے جس سے خدا انکار کیا جا سکے؟
ایسے ھزاروں مثالیں موجود ہیں جو فطرت ہمیں بتا رہی ہوتی ہے دراصل ہم فطری باتوں کو سمجھ نہیں پا رہے
فطرت کا اصول ہے کہ سب کو اصول پر پرکھا جائے گا
یہ فطرت کا کبھی بھی اصول نہیں رہا کہ ایک کے لیے ایک قانون اور دوسرے کے لیے دوسرا قانون ہو آپ کو جب خدا کے بارے میں کوئی سوال سمجھنا ہو وہ کسی انسان سے پوچھنے سے پہلے فطرت سے پوچھیں آپ کو جواب مل جائے گا کیوں کہ فطرت ایک قانون کے تابع ہے جب کے انسان اس قانوں سے انکھیں چرا لیتا ہے فقط اس لیے کہ اس کی تربیت اسے ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے لیکن جب وہ انسان فطرت کے ہم اھنگ ہوگا تو اسے کسی سے بھی کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں جس کا فطرت پر جتنا گہرا مطالعہ ہو گا اس کا جواب اتنا تسلی بخش ہوگا۔
فطرت نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگر دو انسان ایک ساتھ بیٹھے ہوں وہ جو ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں دونوں کے کانوں کی سماعت بھی درست ہے لیکن آواز جس سورس پر سفر کر کے کان تک پہنچتی ہے اگر اس سورس کو بیچ سے نکال دیا جائے تو ایک کی آواز دوسرا نہیں سن پائے گا تو کیا یہ مان لیا جائے کہ آواز کا کوئی وجود نہیں یا یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری سورس درست نہیں آپ کیا فیصلہ کریں گے یقینن آپ کے علم نے اپ کو یہ بتا دیا ہے کہ آواز کے لیے جتنے کان ضروری ہیں اتنی وہ سورس بھی ضروری ہی جس پر آواز نے سفر کرتا ہے تو ایسا کیا ہوا کہ خدا کو سمجھنے کے لیے فطرت کے اس قانون کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اگر آپ خدا کو سمجھنا چاھتے ہیں تو اپنی سورس کو بھتر کریں نہ کہ اپنے کانوں کا اعلاج کرین خدا کو سمجھنے کی بھترین سورس، فطرت ہے

اگر میری اس تحریر پر کوئی ری ایکشن آیا یا کو سوال اٹھا تو کوشش کرونگا اسے جواب دے سکوں یا اس پر مزید بھی لکھا جا سکتا ہے  



Comments

Popular posts from this blog

Ulti Chalang

Ham Apni Qabron Main Sans Ley Rahey Hain

Availability And Unavailability