Taqabul Ka Taqabully Jaezaتقابل کا تقابلی جائزہ

 اج کوشش کرینگے کہ تقابل کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے

میں اسی معاشرے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوں یا یوں سمجھ لیجیے کہ بائیس تئیس کروڑ کی بھیڑ میں سے ہی ہوں۔ معاشرہ ھمیشہ افراد کا پیش خیمہ ہوتا ہے میں اس معاشرے کی جو صحیح تشخیص کر سکا ہوں وہ یہ ہے کہ ھم دو مقامات پر بلکل اناڑی ہیں اور ان مقامات کی ہی وجہ سے ہم اناڑی ہی رہ گئے ہیں ایک ہے معاملہ فھمی اور دوسرا ہے تقابل، معاملہ فھمی پر اگلی بار لکھنے کی کوشش کروں گا آج پہلے تقابل کو سمجھیں کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نظر سے گذری جو کہ کرونا لاک ڈائون کے درمیان اٹلی سے ایک تصویر تھی جسے ہماری اس بھیڑ میں سے کسی نے شیئر کی تھی جس میں دو حصوں میں دکھایا گیا تھا ایک حصے میں اٹلی کے کسے فلائی اوور کے نیچے کچھ لوگوں نے اشیاء خوردونوش رکھ دیں تھی کہ حسب ضرورت کوئی چاہے تو اسے استعمال کرنے کے لیے لے جا سکے لیکن مین بات پوسٹ میں یہ بتائی گئی تھی کہ یہاں فوٹو سیشن یا وڈیو گرافی کرنے والا کوئی بھی موجود نہیں تھا دوسری طرف ھمارے معاشرے کی ایک تصویر تھی جہاں کچھ حقیر سی چیز کسے دی جارہی تھی تو وہاں دینے والا تو کوئی ایک تھا لیکن ایک بھیڑ فوٹو سیشن کے لیے تیار تھی جس کا فوٹو اس پوسٹ پر رکھا گیا یہاں تک تو ساری بات ٹھیک بھی مان لی جاتی لیکن اس پوسٹ کو جو عنوان دیا گیا تھا وہ میرے آج کے موضوع کے مطابق جسے ڈسکس کرنا مقصود ہے وہ عنوان یہ تھا کہ " کافر معاشرے اور مسلمان معاشرے کا فرق دیکھ لیں" یہ ہمارا تقابلی فھم ہے پوسٹ کرنے والے کا تقابل اگر ٹھیک نہیں تھا تو بھی خیر لیکن اس پوسٹ پر کیے گئے کمنٹس دوسروں کہ چٹھہ بھی کھول رہے تھے کوئی آہ کر رھا تھا کوئی واہ کر رہا تھا میں نے مجبور ہو کر صاحب پوسٹ کو میسیج کیا کہ اپنی پوسٹ کا کیپشن درست کر لیجیے یہ مسلمان اور کافر کا تقابل نہیں یہ تقابل ہے باشعور معاشرے اور بے شعور معاشرے کا آپ کی ھیڈنگ یہ ہونی چاہیے تھی کہ "باشعور معاشرے اور بے شعور معاشرے کا فرق دیکھ لیں" تو اس تصویر کو اور بھی اچھے طریقے سے سمجھنے کا موقع ملتا۔ھم نے ایسی ھزاروں تاویلیں بنا دی ہیں جو مسلمان اور کافر کے درمیان کا مسئلہ سرے سے ہے ئی نہیں ایسے سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں ہمارا تقابل ہمیں اور پیچھے کی طرف دھکیل دیتا ہے جیسے ہمارے معاشرے میں مرد اور عورت کا تقابل بھی غلط کیا جاتا ہے کہ عورتوں کے حقوق مردوں کے برابر ہیں لیکن دیے نہیں جاتے اس بات کو لے کر بڑے بڑے طوفان اٹھائے جاتے ہیں اگر مرد اور کا تقابل کیا جائے تو جو طوفان حقوق کے لے کر اٹھائے جاتے ہیں بیشتر وہ مسائل حقوق کے ہیں ہی نہیں، مثال کے طور پر ٹویوٹا کمپنی بھی گاڑیاں بناتی ہے اور مرسڈیز بھی گاڑیاں بناتی ہے ٹویوٹا اپنی بنائی ہوئی گاڑیاں لاکھوں کی مالیت سے بیچتی ہے اور مرسڈیز کروڑوں میں بیچتی ہے اب ٹویوٹا کمپلین کرتی ہے کہ مجھے اپنا حق نہیں دیا جا رہا میری گاڑیاں لوگ کچھ لاکھوں کی قیمت سے خرید کرتے ہیں اور مرسڈیز کو کروڑوں میں کیوں خرید کر رہے ہیں لہذا میرا حق چھینا جا رہا ہے کیا ایسا ممکن ہے یا کیا یہ بات حق پر مبنی ہے نہیں کیوں کہ یہ معاملہ حق کا ہے ہی نہیں یہ معاملہ ہے مینوفیکچرنگ کا ٹویوٹا کی مینوفیکچرنگ اور مرسڈیز کی مینوفیکچرنگ میں فرق ہے یہاں حق کا صحیح تقابل کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ ٹویوٹا کے لیے الگ روڈ ہوں اور مرسڈیز کے لیے الگ روڈ ہوں تو یہ حق تلفی ہو سکتی ہے ٹویوٹا ٹوٹے ہوے راستوں پر سفر کرے اور مرسڈیز کے لیے موٹروے ٹائپ کے روڈ ہوں تو ٹویوٹا کو رونا سمجھ میں اتا ہے لیکن ایسا نہیں۔ یہی معاملہ مرد اور عورت کے بیچ کا ہے جہاں عورت (ایسا نہیں کہ کسی جگہ پر عورت کے حقوق کی پامالی نہیں ہو رہی ہمارے معاشرے میں عورت کے حقوق کے ساتھ مرد کے حقوق بھی اسے نہیں دیے جا رہے میرا مقصد صرف تقابل کو درست سمت میں لانے کا ہے)
کے حقوق بتائے جا رہے ہوتے ہیں وہاں یہی مینوفیکچرنگ پرابلم بھی ہوتے ہیں جسے عورت سمجھتی ہے کہ یہ میرے حق پر ڈاکہ ہے۔ایسے کئی مسائل کی نشاندھی کی جا سکتی ہے لیکن مضمون کی طوالت کا اندیشہ ہے۔
بحر حال ہمیں صحیح تقابل کرنے کی ضرورت ہے۔

                                                                              





Comments

Popular posts from this blog

Ulti Chalang

Ham Apni Qabron Main Sans Ley Rahey Hain

Availability And Unavailability