Posts

Principles

Image
  اگر انسان کو دنیا میں بہتر زندگی گذارنے کے لیے جو سب سے زیادہ اھم چیز کی تلاش کرنی چاہیے یا جس کا سب سے زیادہ اھم کردار ہو سکتا ہے تو وہ ایک لفظ میں یہ ہوگا کہ اصول۔ اصولوں کی اھمیت کو سمجھنے کے لیے ہمارے پاس فقط ایک ہی راستہ موجود ہے دوسرا کوئی راستہ موجود ہی نہیں اور وہ ہے فطرت کا راستہ جسے سمجھے بغیر آپ اصولوں کو نہیں سمجھ سکتے کہ آخر یہ اصول ہیں کیا اور کیوں ضروری ہیں ۔ زندگی سے فطرت کو نکال دیا جائے یا فطرت سے زندگی کو نکال دیا جائے تو دونوں چیزیں اپنی قیمت اور اھمیت کھو دیں گی۔ اگر آپ یہ مان لیں کہ فطرت ہی زندگی ہے اور زندگی ہی فطرت ہے تو یہ غلط بات نہیں ہوگی۔ فطرت اپنے اصولوں کے مطابق اپنے اصولوں کی پابند ہے لیکن اکثر و بیشتر انسان کسی بھی اصول کا پابند نہیں رہتا یہی وجہ ہے کہ وہ اس چیز سے ٹکرانے کی کوشش کرتا ہے جو لگے بندھے اصولوں کے مطابق ان اصولوں کی پابند ہوتی ہے یعنی فطرت سے جب بھی ٹکرائو ہوگا تو نقصان فقط ٹکرائو کرنے والے کا ہوگا کیوں کہ یہی اصول و ضوابط ہیں جو کسی کو ٹکرائو سے روکے رکھتے ہیں۔ انسان کو ہر حال میں فطرت سے ھم آہنگ رہنا ہوگا اسی میں انسان کی بقا ہے۔ انس...

Availability And Unavailability

Image
  یہ دنیا عجیب طرز سے بنائی گئی ہے یہاں جو کسے کے لیے "ہے" وہ اس کے لیے ناکافی ہے اور یہاں وہی جو کسی کے پاس "نہیں ہے" وہ اس کے لیے ایک مقصد ہے ان دونوں باتوں کے درمیان جو فرق ہے وہ ہے "سوچ" کا اور "سمجھنے" کا انسان تب نقصان اٹھاتا ہے جب وہ اپنے مقصد کو ایک طرفہ طور پر دیکھتا ہے اگر وہ اس چیز کا مطالعہ کرے کہ جو میرے پاس "ہے" وہ جس کے پاس "نہیں ہے" اس کی کیا کیفیت ہے تو معاملہ کسی قدر آسان ہو جائے گا۔ جو "ہے" کسی کے لیے ناکافی ہے اسے چاہیے کہ اس کا بھی مطالعہ کرے جس کے پاس اس "ہے" سے بھی "زیادہ "ہے" تو کیا وہ جو اس کے پاس "ہے" وہ اس "ہے" سے مطمئن ہے یقیناً آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی اس"ہے" سے غیر مطمئن ہے جو آپ کی " ہے" سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی طرح جو "ہے" آپ کے پاس ہے اور وہ "ہے" جس کے پاس نہیں تو کیا وہ آپ کی "ہے" کو پاکر مطمئن ہو سکے گا یقیناً نہیں کیوں کہ وہ بھی آپ میں سے ہے جیسے آپ اپنی "ہے" سے مطمئن نہیں تو جو اس ...

Weightless بے وزنی

Image
  مولانا وحید الدین خان نے اپنے کتاب ڈائری کے صفحے نمبر 216 پر ایک واقعہ نقل کیا ہے جو اس طرح ہے تین "خلائی ہیرو راکیش شرما ، پوری مالی شو ، گناڈی اسٹریکالوف اپریل 1984 کو اپنے اٹھ روزہ خلائی سفر سے زمین پر اترے تو وہ خلا میں پانچ ملین کلو میٹر کا سفر طے کر چکے تھے۔ مگر جب انکو خلائی مشین سے باہر نکال کر دوبارہ زمین پر لایا گیا تو وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے سے معذور تھے اس دن ٹیلیویژن پر خلائی پروگرام دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مسٹر شرما زمین پر ایک مفلوج کی طرح پڑے ہوئے ہیں ان کے چہرے پر سخت شرمندگی کے آثار ہیں اور لوگ ان کا بازو پکڑ کر ان کو کرسی پر بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا اس کی وجہ ان کا بی وزنی کی حالت میں آٹھ دن رہنا تھا مسٹر شرما اور ان کے روسی ساتھی جب زمین سے تین سئو کلومیٹر اوپر خلا میں اڑان کر رہے تھے تو ان کا جسم بلکل بے وزن ہو چکا تھا وہ خلائی گاڑی کے اندر اسی طرح تیرتے تھے جیسے مچھلی پانی میں تیرتی ہے مسٹر شرما نے ایک خلائی انٹرویو میں کہا تھا کہ اس وقت میں اپنے ٹوتھ پیسٹ اور برش کو پکڑنے کی کوشش کر رہا ہوں جو میرے ھاتھ سے چھوٹ کر چھت پر جا لگے ہیں...

خدا کے بارے میں غلط فھمی

Image
جب انسان خدا کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ سب سے بڑی غلطی یہ کرتا ہے کہ دراصل وہ خدا کا نہیں اس سوچ کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے جو اسے گھر سے ملی یا پہر معاشرے سے ملی انسان اپنی تربیت کی بنا پر مطالعہ کر رہا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسان خدا کو مان کر بھی غلطی کر رہا ہوتا ہے اور خدا کا انکار کر کے بھی غلطی کر رہا ہوتا ہے۔خدا کو ماننے یا خدا کا انکار کرنے کے لیے جو سب سے زیادہ ضروری ہے وہ ہے فطرت کو سمجھنا جب ہم اپنے دماغ کو سب خرافات سے آزاد کر کے اپنی اس تربیت کو جو ہم نے گھر سے لی ہے یا معاشرے نے ہمیں دی ہے اسے ایک طرف رکھنا ہوگا کیوں کہ اگر آپ کے تربیت ایسی ہوئی ہے جہاں خدا سب کچھ کا مالک ہے تو آپ فطرت کو بھی خدا کے ساتھ خلط ملط کر دینگے اور اگر آپ کی تربیت ایسی ہوئی ہے جہاں خدا کا وجود ہی نہیں تو آپ خداکے ساتھ فطرت کا بھی انکار کر سکتے ہیں اور کبھی بھی فطرت کو سمجھ نہیں سکیں گے فطرت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے آپ ذھن کسی چیز کی پیداورا نہ ہو آپ خود ڈسکور کریں کہ معاملہ کیا ہے نہ کہ ان لوگوں کے پیچھے چلیں جن لوگوں نے فقط اس کی پیروی کی جو ان کے اپنے اپنے آئیڈیل تھے جسے شخصیت پرستی بھی کہا جا سک...

I Am A Thief میں چور ہوں

Image
  میں چور ہوں اور میں پہلا چور ہوں جو اقرار کر رہا ہوں کہ میں چور ہوں جب اور جس دن بائیس تئیس کروڑ چور یہ اقرار کر لیں گے کہ ہم چور ہیں اس دن ھمارے معاشرے میں کوئی چور نہیں رھے گا کیوں کہ لفظ چور کی معنی ہے کہ وہ آدمی جس کے کرتوت کوئی نہ دیکھے کیوں کہ چور وہی ہے جس کے کرتوت ڈھکے رہیں جس کے کرتوت ظاھر ہو گئے وہ چور نہیں رہتا اب اس بات سے اندازہ لگائیں کہ فقط ھزار یا پندرہ سئو لوگ یہاں چور نہیں جو اسیمبلیوں یا سینٹ میں یا کچھ اور بیٹھے ہیں ان کے کرتوت ہمیں پتہ ہے تو وہ لوگ چور نہیں ہیں لیکن یقیناً وہ لوگ چور ہیں جو اکثریت میں ہیں جو ان ھزار پندرہ سئو لوگوں کو آگے دھکیل دیتے ہیں اپنی چوری چھپانے کے لیے اور بلیم کے لیے جن پر وہ آرام سے چوری کا اور دیگر بلیم لگا سکیں اور یہی وہ کرتے آ رہے ہیں جسے غالباً چوھتر سال کا عرصہ لگ چکا ہے اگر جسے یہ چور کہتے آئے ہیں اگر واقعی وہ چور ہوتے تو حالات نے بدل جانا تھا لیکن آپ کو معلوم ہے کہ حالات نہیں بدلے اب کیا یہ بات حقیقت نہیں کہ میں چور ہوں مجھے فخر ہے کہ میں یہ سمجھ سکا کہ یہ اقرار کر سکوں کہ میں چور ہوں جب میں نے یہ اقرار کر لیا ہے کہ میں چور...

معاشرہ The Society

Image
میں نے اپنے دادا سے ایک بات سنی جو کہتے تھے کہ انہوں کسی اھل علم سے سنی تھی دادا نے بتایا کہ کسی زمانے میں دو بھائی رھتے تھے وہ ھر سال گندم کاشت کرتے تھے اور وہی ان کا گذر بسر تھا ایک سال انہوں نے گندم لگائی گندم کا فصل اگلے سال سے کچھ کم ہوا دونوں کا طریقہ یہ تھا کہ گندم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے تھے اور پہر باری باری اپنے اپنے گھر لے جاتے تھے اس سال بھی انہوں نے ایسا ہی کیا اس زمانے میں بوریاں وغیرہ نہیں ہوتی تھیں ایک برتن تھا جس میں ڈال کر وہ اناج گھر لے جاتے تھے تو بڑے بھائی نے کہا آپ ایک باری اپنے حصے سے گھر لے جائو پہر تم سانس لینا میں اپنے حصے سے لے جائوں گا چناچہ چھوٹا بھائی وہ برتن بھر کر گھر کی طرف روانا ہو گیا پیچھے بڑے بھائی نے سوچا اس سال گندم کم ہے میں بڑا ہوں گذارا کر لونگا لیکن یہ چھوٹا مشکل میں آجاے گا تو اس نے اپنے حصے سے ایک جھولی بھر کر چھوٹے بھائی کے حصے میں ڈال دی جب چھوٹا بھائی آیا تو اس بار بڑے نے وہ برتن اپنے حصے سے بھرا اور گھر کو روانا ہوا تو پیچھے چھوٹے بھائی نے سوچا کہ گندم اس سال کم ہے میں اکیلا ہوں بھائی بال بچے دار ہے اس کو مشکل آ جائے گی اس نے اپنے ح...

موقعہ اور غفلت Opportunity and negligence

Image
ایک کے لیے موقعہ اکثر دوسرے کی غفلت  کی وجہ سے بھی میسر آتا ہے جسے موقعہ ملتا ہے وہ اپنی ایکٹیوٹی  کی بنیاد پر ہوتا ہے اور غفلت  ھمیشہ پچھتاوے اور نقصان  کی صورت میں اسے بھگتنی پڑتی ہے دنیا میں نظر ڈالیں گے تو روز مرہ کی زندگی  میں ایسے کئی واقعے آپ کو ملیں گی جو غفلت اور موقعے کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں لیکن افسوس ہم اتنی غفلت میں گھرے ہوئے ہیں کہ ان سے کچھ سیکھنے  کو بھی تیار نہیں۔ سندھ کا ایک شھر میرپورخاص جو آم کے لحاظ سے پورے پاکستان میں مشہور ہے یہاں آم کے باغات کافی حد تک ہیں اور ان کی کوالٹی سب سے ٹاپ پر ہے اس وجہ سے یہاں آم کا کاروبار اچھا خاصہ ہے۔ یہ واقعہ آم کی سیزن 2013 کا ہے میرپورخاص شہر کی ایک ٹرانسپورٹ کمپنی جو پورے پاکستان میں آم کی ترسیل کا کام سرانجام دیتی ہے جو 1975 سے غالباً یہ کام کر رہی ہے اسی ٹرانسپورٹ کمپنی کے ایک بیوپاری نے ٹرانسپورٹ کے مینیجر سے آم کے اوپر لگنے والے اسٹیکرز کے بارے میں بات کی کہ مجھے دس لاکھ اسٹیکر چھپوا کر دیں (سارے بیوپاری حضرات اپنے مارکہ کے اسٹیکرز چھپواتے ہیں اور یہ کام بھی ٹرانسپورٹ کمپنی کی مدد سے سر ...