Posts

خدا کے بارے میں غلط فھمی

Image
جب انسان خدا کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ سب سے بڑی غلطی یہ کرتا ہے کہ دراصل وہ خدا کا نہیں اس سوچ کا مطالعہ کر رہا ہوتا ہے جو اسے گھر سے ملی یا پہر معاشرے سے ملی انسان اپنی تربیت کی بنا پر مطالعہ کر رہا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ انسان خدا کو مان کر بھی غلطی کر رہا ہوتا ہے اور خدا کا انکار کر کے بھی غلطی کر رہا ہوتا ہے۔خدا کو ماننے یا خدا کا انکار کرنے کے لیے جو سب سے زیادہ ضروری ہے وہ ہے فطرت کو سمجھنا جب ہم اپنے دماغ کو سب خرافات سے آزاد کر کے اپنی اس تربیت کو جو ہم نے گھر سے لی ہے یا معاشرے نے ہمیں دی ہے اسے ایک طرف رکھنا ہوگا کیوں کہ اگر آپ کے تربیت ایسی ہوئی ہے جہاں خدا سب کچھ کا مالک ہے تو آپ فطرت کو بھی خدا کے ساتھ خلط ملط کر دینگے اور اگر آپ کی تربیت ایسی ہوئی ہے جہاں خدا کا وجود ہی نہیں تو آپ خداکے ساتھ فطرت کا بھی انکار کر سکتے ہیں اور کبھی بھی فطرت کو سمجھ نہیں سکیں گے فطرت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے آپ ذھن کسی چیز کی پیداورا نہ ہو آپ خود ڈسکور کریں کہ معاملہ کیا ہے نہ کہ ان لوگوں کے پیچھے چلیں جن لوگوں نے فقط اس کی پیروی کی جو ان کے اپنے اپنے آئیڈیل تھے جسے شخصیت پرستی بھی کہا جا سک...

I Am A Thief میں چور ہوں

Image
  میں چور ہوں اور میں پہلا چور ہوں جو اقرار کر رہا ہوں کہ میں چور ہوں جب اور جس دن بائیس تئیس کروڑ چور یہ اقرار کر لیں گے کہ ہم چور ہیں اس دن ھمارے معاشرے میں کوئی چور نہیں رھے گا کیوں کہ لفظ چور کی معنی ہے کہ وہ آدمی جس کے کرتوت کوئی نہ دیکھے کیوں کہ چور وہی ہے جس کے کرتوت ڈھکے رہیں جس کے کرتوت ظاھر ہو گئے وہ چور نہیں رہتا اب اس بات سے اندازہ لگائیں کہ فقط ھزار یا پندرہ سئو لوگ یہاں چور نہیں جو اسیمبلیوں یا سینٹ میں یا کچھ اور بیٹھے ہیں ان کے کرتوت ہمیں پتہ ہے تو وہ لوگ چور نہیں ہیں لیکن یقیناً وہ لوگ چور ہیں جو اکثریت میں ہیں جو ان ھزار پندرہ سئو لوگوں کو آگے دھکیل دیتے ہیں اپنی چوری چھپانے کے لیے اور بلیم کے لیے جن پر وہ آرام سے چوری کا اور دیگر بلیم لگا سکیں اور یہی وہ کرتے آ رہے ہیں جسے غالباً چوھتر سال کا عرصہ لگ چکا ہے اگر جسے یہ چور کہتے آئے ہیں اگر واقعی وہ چور ہوتے تو حالات نے بدل جانا تھا لیکن آپ کو معلوم ہے کہ حالات نہیں بدلے اب کیا یہ بات حقیقت نہیں کہ میں چور ہوں مجھے فخر ہے کہ میں یہ سمجھ سکا کہ یہ اقرار کر سکوں کہ میں چور ہوں جب میں نے یہ اقرار کر لیا ہے کہ میں چور...

معاشرہ The Society

Image
میں نے اپنے دادا سے ایک بات سنی جو کہتے تھے کہ انہوں کسی اھل علم سے سنی تھی دادا نے بتایا کہ کسی زمانے میں دو بھائی رھتے تھے وہ ھر سال گندم کاشت کرتے تھے اور وہی ان کا گذر بسر تھا ایک سال انہوں نے گندم لگائی گندم کا فصل اگلے سال سے کچھ کم ہوا دونوں کا طریقہ یہ تھا کہ گندم کو دو حصوں میں تقسیم کرتے تھے اور پہر باری باری اپنے اپنے گھر لے جاتے تھے اس سال بھی انہوں نے ایسا ہی کیا اس زمانے میں بوریاں وغیرہ نہیں ہوتی تھیں ایک برتن تھا جس میں ڈال کر وہ اناج گھر لے جاتے تھے تو بڑے بھائی نے کہا آپ ایک باری اپنے حصے سے گھر لے جائو پہر تم سانس لینا میں اپنے حصے سے لے جائوں گا چناچہ چھوٹا بھائی وہ برتن بھر کر گھر کی طرف روانا ہو گیا پیچھے بڑے بھائی نے سوچا اس سال گندم کم ہے میں بڑا ہوں گذارا کر لونگا لیکن یہ چھوٹا مشکل میں آجاے گا تو اس نے اپنے حصے سے ایک جھولی بھر کر چھوٹے بھائی کے حصے میں ڈال دی جب چھوٹا بھائی آیا تو اس بار بڑے نے وہ برتن اپنے حصے سے بھرا اور گھر کو روانا ہوا تو پیچھے چھوٹے بھائی نے سوچا کہ گندم اس سال کم ہے میں اکیلا ہوں بھائی بال بچے دار ہے اس کو مشکل آ جائے گی اس نے اپنے ح...

موقعہ اور غفلت Opportunity and negligence

Image
ایک کے لیے موقعہ اکثر دوسرے کی غفلت  کی وجہ سے بھی میسر آتا ہے جسے موقعہ ملتا ہے وہ اپنی ایکٹیوٹی  کی بنیاد پر ہوتا ہے اور غفلت  ھمیشہ پچھتاوے اور نقصان  کی صورت میں اسے بھگتنی پڑتی ہے دنیا میں نظر ڈالیں گے تو روز مرہ کی زندگی  میں ایسے کئی واقعے آپ کو ملیں گی جو غفلت اور موقعے کو سمجھنے میں مدد کرتے ہیں لیکن افسوس ہم اتنی غفلت میں گھرے ہوئے ہیں کہ ان سے کچھ سیکھنے  کو بھی تیار نہیں۔ سندھ کا ایک شھر میرپورخاص جو آم کے لحاظ سے پورے پاکستان میں مشہور ہے یہاں آم کے باغات کافی حد تک ہیں اور ان کی کوالٹی سب سے ٹاپ پر ہے اس وجہ سے یہاں آم کا کاروبار اچھا خاصہ ہے۔ یہ واقعہ آم کی سیزن 2013 کا ہے میرپورخاص شہر کی ایک ٹرانسپورٹ کمپنی جو پورے پاکستان میں آم کی ترسیل کا کام سرانجام دیتی ہے جو 1975 سے غالباً یہ کام کر رہی ہے اسی ٹرانسپورٹ کمپنی کے ایک بیوپاری نے ٹرانسپورٹ کے مینیجر سے آم کے اوپر لگنے والے اسٹیکرز کے بارے میں بات کی کہ مجھے دس لاکھ اسٹیکر چھپوا کر دیں (سارے بیوپاری حضرات اپنے مارکہ کے اسٹیکرز چھپواتے ہیں اور یہ کام بھی ٹرانسپورٹ کمپنی کی مدد سے سر ...

حضرت انسان

Image
  حضرت انسان کی شروعات کا منمبہ تکرار گواہی اور پہر انکار پر مشتمل ہے، کیسے وہ ایسے کہ اللہ نے جب آدم کو بنایا تو آدم کی شروعات فرشتوں شیطان اور اللہ کی تقرار سے شروع ہوتی ہے یعنی آدم کو شروعات میں ہی تنازعے کا سامنا رہا حالانکہ وہ تقرار آدم کی نہیں تھی آدم کا ڈاریکٹ اس تقرار سے کوئی تعلق نہیں لیکن جب اس تقرار کا نتیجہ برآمد ہوا یعنی فرشتوں کا اپنی بات سے رجوع اور شیطان کا اپنی بات پر اڑ جانا جب شیطان اللہ کی ذات سے انکاری ہوا تو اس نے فرشتوں کو گمراہ کرنے کی ذرہ برابر بھی کوشش نہیں کی کیوں کہ شیطان نے یہ جان لیا تھا کہ جو تقرار شروع ہوئی ہے اس کا سبب آدم ہے نہ کہ فرشتے کیوں کہ اس وقت شیطان اور فرشتوں نے ایک ہی موقف رکھا تھا تو شیطان نے آدم کو ٹارگیٹ کیا اس ٹارگیٹ کے نتیجے میں آدم ان ڈاریکٹ اس تقرار کا حصہ تب بنا جب آدم نے بھی غلطی کی اور شیطان کو اس کی پہلی کامیابی کا موقعہ فراھم کیا اس طرح آدم کو اس کی سزا ملی اور وہ اس تقرار میں شامل قرار پایا۔اس سے ظاھر ہوا کہ حضرت آدم کی شروعات ایک تقرار ہے۔ جو حضرت انسان کا پہلا فیلیوئر ہے۔ اس کے بعد کا معاملہ ہے گواہی کا آدم کے بعد بقایا پو...

احتجاج بمقابلہ کامیابی 2

Image
  مکالمہ ڈاٹ کام پر میری ایک تحریر پوسٹ ہوئی تھی "احتجاج بمقابلہ کامیابی "جس کے بارے میں کچھ دوستوں نے تبصرہ کیا تھا تو میں نے یہ ضروری سمجھا کہ اس تحریر کو اور واضع کرنے کی ضرورت ہے جو نقطعہ واضع ہوا وہ یہ تھا کہ اگر احتجاج نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے یا یہ کہ دنیا میں ھر جگہ احتجاج ہوتے ہیں تو یہ کیسے کر ممکن ہے کہ احتجاج کے علاوہ وہ کونسی ممکنات ہیں جن سے مسئلوں کا حل کیا جا سکے۔ ہمارے معاشرے کہ ایک یہ بھی المیہ رہا ہے کہ مسئلوں کی نشاندھی تو کی جاتی رہی ہے لیکن مسئلوں کا حل یا تو پیش نہیں کیا جا سکا یا سمجھ سے بالا تر رھا ہے۔ اس چیز کو ذرا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ احتجاج کب کیا جاتا ہے اکثر احتجاج تب ھوتے ہیں کہ انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر اپنی بات کو منوانے کے لیے احتجاج کیا جاتا ہے اور اس احتجاج کو سامنے والے کی طرف سے بھی اکثر فورس کے ذریعے اس احتجاج کو نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے احتجاج بھی ایک فورس کا ہی نمونی ھوتا ہے یعنی فورس کے سامنے ایک اور فورس جب ایک معاملے میں دو فورس آمنے سامنے آجائیں تو فورس ہمیشہ منفی رویوں اور منفی نتیجوں کو پیدا کرتی ہیں جس سے ٹکرائو کا م...

Taqabul Ka Taqabully Jaezaتقابل کا تقابلی جائزہ

Image
  اج کوشش کرینگے کہ تقابل کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے میں اسی معاشرے کا ایک چھوٹا سا حصہ ہوں یا یوں سمجھ لیجیے کہ بائیس تئیس کروڑ کی بھیڑ میں سے ہی ہوں۔ معاشرہ ھمیشہ افراد کا پیش خیمہ ہوتا ہے میں اس معاشرے کی جو صحیح تشخیص کر سکا ہوں وہ یہ ہے کہ ھم دو مقامات پر بلکل اناڑی ہیں اور ان مقامات کی ہی وجہ سے ہم اناڑی ہی رہ گئے ہیں ایک ہے معاملہ فھمی اور دوسرا ہے تقابل، معاملہ فھمی پر اگلی بار لکھنے کی کوشش کروں گا آج پہلے تقابل کو سمجھیں کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نظر سے گذری جو کہ کرونا لاک ڈائون کے درمیان اٹلی سے ایک تصویر تھی جسے ہماری اس بھیڑ میں سے کسی نے شیئر کی تھی جس میں دو حصوں میں دکھایا گیا تھا ایک حصے میں اٹلی کے کسے فلائی اوور کے نیچے کچھ لوگوں نے اشیاء خوردونوش رکھ دیں تھی کہ حسب ضرورت کوئی چاہے تو اسے استعمال کرنے کے لیے لے جا سکے لیکن مین بات پوسٹ میں یہ بتائی گئی تھی کہ یہاں فوٹو سیشن یا وڈیو گرافی کرنے والا کوئی بھی موجود نہیں تھا دوسری طرف ھمارے معاشرے کی ایک تصویر تھی جہاں کچھ حقیر سی چیز کسے دی جارہی تھی تو وہاں دینے والا تو کوئی ایک تھا لیکن ایک بھیڑ فوٹو س...